ممبئی،28؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی) ممبئی میں چھ لوک سبھا حلقوںمیں پیر 29 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، اس درمیان شہر میں ووٹرس بیداری مہم کا سلسلہ جمعہ اور سنیچر کو جاری رہا۔ اس دوران خصوصی طور پر اقلیتی علاقوں میں اہم ترین اجلاس منعقد کیے گئے تاکہ پولنگ کے دن زیادہ سے زیادہ رائے دہندگان گھروں سے باہر نکلیں اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔
اس مہم کا ایک مقصد سیکولر طاقتوں کے امیدوار کو ووٹ دینے پر اتفاق ہوا جبکہ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ایک علاقائی سطح کا گروپ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
معروف سماجی کارکن عامر ادریسی،صحافی جاوید جمال الدین اور رائے دہندگان میں ایک عرصہ سے بیداری پیدا کرنے کے لیے سرگرم سلیم الوارے کی کوششوں ممبئی میں جنوب وسطی علاقے کے سنگم نگر انٹاپ ہل اور وڈالا میں اجلاس منعقد کیے گئے ،اس قسم کے جلسے بائیکلہ، اگری پاڑہ اور مدنپورہ جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی رکھے گئے ،جن کا مقصد رائے دہندگان میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ مقامی تنظیموں،تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوںکی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کافی دلچسپی بھی اس مہم میں دکھائی گئی۔
اس موقع پر عامر ادریسی نے واضح طورپر کہا کہ ہمیں یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ووٹوں کی تقسیم نہ ہواور ایسے امیدوار کامیاب نہ ہوں جوکہ پانچ سال تک عوام کے مسائل سے چشم پوشی کریں ۔سماجی رہنماءسلیم الوارے نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ممبئی میں پولنگ کا فیصد کافی کم ہوتا ہے اور خصوصی طورپر مسلم محلوں میں اس کا تناسب مزید گھٹ جاتا ہے جوکہ تشویشناک بات ہے۔
یہی مقصد ہے کہ کام کرنے والے اور سب کو ساتھ میں لیکر چلنے والے امیدواروںکو کامیاب بنایا جائے ۔سنیئرصحافی جاوید جمال الدین نے کئی مثالیں دے کر سمجھایا کہ بعض اوقات ایسے امیدوارکامیاب ہوجاتے ہیں ،جنہیں کسی بات کا شعورنہیں ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور اہل خانہ کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کو بھی متوجہ کریں کہ وہ وقت پر اپنے ووٹ کا استعمال کرلیں۔
اس موقع پر مولانا سیّد اطہر علی،مولانا عبدالجبار ماہر القادری ،جاوید احمد،متین انصاری سمیت دیگر نمائندوںنے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ووٹ کا صحیح استعمال ہونا چاہئے۔